راولپنڈی، بروز اتوار، صدرِ مسلم کانفرنس، و سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر، جناب سردار عتیق احمد خان کی طرف سے راقم الحروف کو ایجوکیٹر اینڈ لرنرز(رجسٹرڈ)، و بزم اقبالؒ پنجاب لاہورکی طرف سے "خدمتِ ادب گولڈ میڈل" علامہ اقبالؒ قومی ایورڈ ملنے پر شاندار تقریب کے انعقاد کروانے، اس تقریب کے لئے انعقاد پر محترم چیئرمین تجمل عباسی، سردار ساجد عباسی، محترم امتیاز عباسی، محترم سبیل عباسی، راجہ عبدالجباربھائی، رانا غلام حسین بھائی کا بے حد ممنون ہوں۔
اس شاندار تقریب میں موجود تمام شرکاء جن میں قابل قدر محترمہ مہرالنساء، سابق وزیر حکومت محترم راجہ محمد یاسین خان، محترم سردار الطاف حسین خان، معروف دانشور محترم سلطان سکندر، محترم راجہ لطیف حسرت، محترم ساجد قریشی ایڈووکیٹ، محترم سردار عاصم زاہد عباسی، محترم سردار عمر منظور چغتائی، محترم سردار ذکاء الرحمن، محترم سردار عامر عنصر، محترم میجر سردار محمود، محترم ضمیر حسین ہاشمی، نادر ضمیر ہاشمی بھائی، قابلِ قدر میڈیا نمائندگان، و جملہ شرکت کرنے والے تمامی مرد و خواتین کا صمیم قلب سے ممنون ہوں۔ جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اپنی اس تقریب کو رونق بخشی۔
اس قدر بہترین تقریب اور اس کے دوران قابلِ قدر جناب عتیق احمد خان، صدر آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر نے عزت افزائی فرمائی، ہم تہہ دِل سے ان کی اس شفقت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے دورانِ انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا اور کہا کہ: "ہمارے شائنگ سٹار نوجوان عابد ضمیر ہاشمی کو ان کی کتاب پر گولڈ میڈل اور علامہ اقبالؒ قومی ایورڈ ملنے کی تقریب میں ہم سب شریک ہیں، انہوں نے گولڈ میڈل لے کر عالقہ کی نیک نامی کو چار چاند لگائے، یہ ہمارے علاقہ، تحصیل بلکہ آزاد کشمیر کے لئے قابلِ اعزاز ہے، یہ ہمارے لئے باعثِ اعزاز ہے کہ ان کا تعلق ہمارے حلقہ سے ہے۔ ہم ان کے خاندان، گاؤں، علاقے اور ریاست کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم سب ان کی اس خوشی میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم نوجوانوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ عابد ہاشمی کی طرح محنت، لگن اور کاوش سے اپنی ریاست، علاقے کا نام روشن کریں اور دوسروں کے لئے قابلِ تقلید بنیں۔ گولڈ میڈل یا قومی ایورڈ فردِ واحد کے نہیں، بلکہ ریاست کا اعزاز اور امانت ہوتا ہے۔ ہم دُعا گو بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نوجوانوں کو ایسے کارناموں کی توفیق عطاء فرمائیں، جس سے معاشرے، ریاست کا نام روشن ہو"۔
ذہانت و فطانت، لئیق و فئیق، تفہیم و تدریک، قابلیت و لیاقت، مائیگی و آمادگی ہرچند کسی کا ذاتی کمال نہیں سب منجانب اللہ ہے جب، جیسے، جسے جتنا چاہے ودیعت کر دے مخزن العطاء، منبعِ فنونِ لطیفہ، کنز التوقیر فقط بارگاہِ الوہیت کی زیبا اور نصِ قطعی وتعز من تشاء کے مصداق ہے کتاب کے اوائل سے تا تکمیل سالہا سال زینہ در زینہ بڑھوتری بارگاہِ ایزدی کی خصوصی دَین ہے جس پہ میں بارگاہِ قدس میں سراپا بارِ صد متشکّر ہوں کہ مجھے کتاب کی کتابت کا شرف عطا ہوا اور پبلش ہو کر آپ سب کی پذیرائی مجھے شہرت کی اوج ثریا تک لے آئی یہ بھی فقط بارگاہِ قدس کا کام ہے جسے سعادت دے دیں۔
تشنگانِ علم و ادب، سخن شناس ادباء شعراء و مصنفین اور عامتہ الناس نے جس قدر تحریری، زبانی، بذریعہ فون کالز، میسجز اور سوشل میڈیا کومنٹس سیکشن میں جن بیش بہا ملفوظات سے دلجوئی فرماتے ہوئے دعائیہ کلماتِ خیر اور تبریک سے نوازا کے بدل میں عمیقت قلبی سے آپ سب کا فرداً فرداً اور یکجائی سطح پر خیر مقدم کرتا ہوں کہ آپ میرے ایوانِ ذوقِ سخن میں تشریف لائے اور پرخلوص طبع آزمائی فرمائی۔ اللہ تعالیٰ آپکو زیست کی رعنائیوں سے مزین بحفاظت درازی عمر بالخیر عمر خضری نصیب فرمائیں۔
کتاب کی اشاعت، پذیرائی، اس پر گولڈ میڈل سے نوازا جانا، یہ سب بفضلِ خدا ہے اور آپ سب کی شفقت و عنایت ہے جو اس قابل سمجھا، میں تو ابھی اس میدان میں طفلِ مکتب ہوں اور قطع خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا۔
میں یہاں صمیمِ قلب سے میڈیا ہاوسز کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی اور میری بے جان تحریروں کو اپنے صفحات پر قابلِ اشاعت بنایا۔ یہ فضل ہے اس بابرکت ذات کا جس نے اپنی کرم سے ہمیں توفیق بخشی کہ ہم نے اپنے علاقہ، ریاست کے لئے حقیر سی کاوش کی۔
ہمارا ملک، ہماری ریاست ہی ہماری پہچان ہیں۔ ہم اُس مُلک کے باسی ہیں، جہاں چاروں موسم، سمندر، دریا، پہاڑ، ریگستان، میدان، سرسبز باغات، نمک، کوئلے کی کانیں، زرخیز زمینیں سب ہی کچھ میسّر ہے اور کشمیر جسے دُنیا کی جنت کہا جاتا ہے اس میں ہم آزادی کا سانس لے رہے ہیں، سچّی بات ہے کہ آزادی ایک ایسی نعمت ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ایک آزاد خطّہ زمین، جہاں ہم سر اُٹھا کر چلتے ہیں، جہاں ہم ایک آزاد شہری کی حیثیت سے رہتے ہیں، یہ اللہ پاک کا ہم پر بہت بڑااحسان ہے۔
ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنی بساط کے مطابق اس کی ترقی، نیک نامی میں اپنا کردار ادا کریں۔ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا، اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کے مصداق ہمیں بے لوث، صلہ کی تمنا کئے اپنی ریاست، وطن کی خاطر اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ خدا کرے میری ارض پاک پر اترے، وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو، یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں، یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو، خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو، خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے، حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو۔
حوصلہ افزائی فرمانے والے جملہ احباب کے لئے بلامبالغہ، خوشامد وغیرہ کی تمام آمیزشوں سے صریحاً قطع نظر، آپکے اعزاز میں جن ملفوظات و القابات کی مالا پرونی چاہیے راقم بوجہ عدمِ لیاقت و کم مائیگی جسارت سے قاصر ہے آپ سب کے خلوص، شفقت کو لفظوں کا خراج دینا مجھ ناتواں کے بس کا روگ نہیں تاہم شکستہ رشحاتِ قلمی موصوف و ممدوح کی خدمت میں بطورِ دعا پیش کرتے ہوئے بدستِ دعا ہوں کہ خداوند قدوس اپنی جناب سے آپ سب کو زیست کی رعنائیاں، مستقبل کی کامیابیاں، عصرِ حاضر کے ہم آہنگ آسودگیوں سے مالامال فرمائیں۔