1. ہوم
  2. کالمز
  3. حمزہ خلیل
  4. عبدالکلام کا ہندوستان

عبدالکلام کا ہندوستان

مولانا عبدالکلام آزاد کا شمار ہندوستان کے ان نامور سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کانگریس میں رہتے ہوئے قیام پاکستان کی شدید مخالفت کی اور متحدہ ہندوستان کے حامیوں میں سے رہے۔ مولانا نے تقسیم ہند کے بعد اپنے خیالات اور تجربات پر مبنی خودنوشت بطور کتاب باعنوان "انڈیا وِنز فریڈم" لکھی جو کہ ان کے انتقال کے بعد شائع ہوئی۔ جہاں ایک طرف مولانا تحریک پاکستان کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں، وہیں اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ کس طرح کانگریسی سیاستدانوں کی زیرنگرانی تقسیم کے بعد مسلمانوں کا خون بہایا جاتا رہا۔

مولانا عبدالکلام آزاد نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے متحدہ ہندوستان کے لیے بہت کوششیں کیں اور یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں غالباً 2023 میں کانگریس نے اپنا 150 سالہ جشن منایا جس میں تحریک آزادی کے تمام لیڈروں کی تصاویر ایک پوسٹر پر نشر کی گئی تھیں، سوائے مولانا عبدالکلام آزاد کے۔ اب ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مولانا عبدالکلام آزاد کا پاکستان مخالف موقف تاریخ کے آئینے میں کس طرح درست ثابت ہوتا ہے اور پاکستان کے مقابلے میں عبدالکلام کے ہندوستان میں اقلیتیں کس قدر آزاد اور محفوظ ہیں۔

حال ہی میں ہندووں نے دیوالی کا مذہبی دن منایا جس میں بعض علاقوں خاص طور پر اترپردیش اور بہار میں مساجد کو رنگین کپڑوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور اس موقع پر مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے چہروں کو رنگ آلود کیا جاتا رہا۔ اس سے متعلقہ بہت ساری ویڈیوز آپ کو سوشل میڈیا پر مل سکتی ہیں۔

اس وقت بھارت میں مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ ہے۔ جس کی انتہا یہ ہے کہ خود بھارتی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے کہ تمام دکانداروں کو اپنے نام نمایاں طور پر ظاہر کرنا چاہئیں۔ دکان کے باہر دکان کے مالک کے نام کی تختی لگی ہونی چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ میں یہاں منظور آفاق صاحب کے ایک کالم "یہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے؟" کا حوالہ دینا چاہوں گا۔

"نام کی تختی، پہلا ہتھیار تھا، دوسرا ہتھیار اس سے بھی زیادہ خوفناک ثابت ہوا۔ وہ جھوٹ کا واویلا تھا: تھوک جہاد، کا افسانہ پھیلا گیا۔ مسلمان دکانداروں پر یہ گھناؤنا الزام لگایا گیا کہ وہ کھانے پر تھوکتے ہیں۔ اسے آلودہ کرتے ہیں اس لئے ان کی دکانوں سے کوئی ہندو سودا سلف نہ خریدے۔ یہ جھوٹ اس قدر اور اتنی شدت سے بولا گیا کہ عام غیر متعصب ہندووں کو بھی سچ لگنے لگا۔ سو کاروبار نفرت کے بوجھ تلے تباہ ہوتے گئے۔ اس وقت ہزاروں کاروباروں کی سچی کہانیاں ناانصافی کی داستانوں میں بدل چکی ہیں، کبھی کسی اخبار نے کوئی سرخی نہیں لگائی کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور نہ ہی کبھی کسی عدالت میں یہ بحث ہو سکی۔ اس طرح مسلمان اکثریتی علاقوں میں سمٹتے چلے جائیں گے۔ یہ نفرت کی آگ جس میں اس وقت مسلمان جل رہے ہیں، یہ آنے والے کل میں پورے ہندوستان کی چتا بھی بن جائے گی"۔

اس معاشی بائیکاٹ کا آغاز 2020 سے شروع ہوا۔ دہلی فسادات کے بعد ہندو انتہا پسند گروہوں نے یہ مہم چلائی کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا کاروبار نہ کیا جائے۔ مسلمانوں کی دکانوں اور کاروباروں کو جلایا گیا اور انہیں دوبارہ کھولنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے مسلم دکانداروں کو مالی نقصان کے باعث مستقل طور پر نقل مکانی کرنا پڑی۔ 2022 میں ہریانہ کے کئی شہروں میں بی جے پی کے حمایت یافتہ ہندو انتہا پسند گروہوں نے مسلم گوشت فروشوں پر حملے کیے اور ان کی دکانیں زبردستی بند کروا دیں۔ کئی جگہوں پر ہندو تاجروں کو ترغیب دی گئی کہ وہ مسلمانوں سے گوشت نہ خریدیں، جس سے ان کی معیشت پر شدید اثر پڑا۔

2020 سے 2023 تک مسلم فوڈ وینڈرز اور ریستورانوں کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی کہ یہ کھانے میں تھوک ملاتے ہیں۔ اسی عرصے میں گجرات میں ہندو قوم پرست تنظیموں، خاص طور پر بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد، نے مسلم سبزی فروشوں کے خلاف منظم مہم چلائی۔ ہندووں کو تلقین کی گئی کہ وہ سبزی صرف ہندووں سے خریدیں۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں پورے بھارت میں مسلم سبزی فروشوں کا روزگار ختم ہوگیا اور 2024 میں اس حکم نامے نے معاشی بائیکاٹ کو اپنے عروج تک پہنچا دیا کہ دکانوں کے باہر ناموں کی تختیاں ضروری ہیں۔ یہ ریاستی پالیسیوں اور انتہا پسند تنظیموں کے منظم اقدامات کے ذریعے مسلمانوں کو کاروبار اور معیشت سے بے دخل کرنے کی ایک خوفناک کوشش ہے۔

ہندوستان میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مسیحی بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ہندوستانی علاقے منی پور میں جہاں مسیحی طبقہ معاشرے کی کمزور اکائی تھا، ان پر ہندووں نے حملہ کیا اور ان کا قتل عام کیا گیا، ان کی املاک کو جلایا گیا، خواتین کی توہین کی گئی، مذہبی عبادتگاہوں میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ کیا گیا اور بائبل مقدس کی توہین کی گئی اور یہ سب ریاستی مشینری، پولیس اور فوج کی موجودگی میں ہوتا رہا۔

لیکن ہندووں کی مسیحیوں سے یہ رویہ پہلی دفعہ نہیں تھا، بلکہ اس سے پہلے 2008 میں بھارتی ریاست اڑیسہ کے ضلع کندھمال میں بھی ہندووں اور مسیحیوں کے درمیان فساد ہوا تھا۔ یہ 24 اگست 2008 کو شروع ہوکر چار دن تک جاری رہا جس میں سینکڑوں مسیحی جاں بحق ہوئے۔ 600 کے قریب مسیحی دیہات کو جلا دیا گیا اور 400 سے زائد چرچ نذر آتش ہوگئے۔ 75,000 مسیحی بے گھر ہوئے اور سینکڑوں خواتین کی عزتوں کو پامال کیا گیا۔ انتہا پسند ہندووں نے ہزاروں مسیحیوں کو زبردستی ہندومت اپنانے پر مجبور کیا۔ آج 16 سال گزر جانے کے باوجود ملزمان کو سزا نہیں مل سکی۔

حال ہی میں بھارتی لوک سبھا میں وقف املاک کا ترمیمی بل 2025 پیش کیا گیا۔ تاہم اس بل سے اب یہ خدشات پیدا ہوچکے ہیں کہ حکومت مسلمانوں کے وقف املاک پر بھی قابض ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، انڈیا میں حال ہی میں ایک فلم ریلیز ہوئی ہے جو اورنگزیب عالمگیر کے مظالم کو دکھاتی ہے۔ اس فلم کے اثرات اور اس خطے کے لوگوں کا ذہنیت دیکھ کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک انتہاپسند سوچ اب فروغ پا رہی ہے۔ سینما ہال میں اس فلم کے دوران لوگوں کا ردعمل بھی انتہائی حیران کن تھا۔ کچھ لوگ سینما ہال میں دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور ایک شخص نے تو سکرین پر یہ لکھ دیا "باہر نکل اورنگزیب"۔ ایک اور شخص گھوڑا اور تلوار لے کر ہال میں گھس آیا اور یہ کہا کہ "آج اورنگزیب کو نہیں چھوڑوں گا"۔ اسی دوران، دہلی کے اکبر روڈ پر ایک شخص پیشاب کرتا ہوا نظر آیا اور کچھ لوگوں نے سینما ہال کے ٹوائلٹس میں مغلوں کی تصاویر لگا دیں تاکہ لوگ ان پر پیشاب کریں۔ اس سوچ اور رویے سے اندیشہ ہے کہ ہندوستان کے کسی علاقے میں ہندو مسلم فساد جلد ہی شروع ہو سکتا ہے۔

ہندوستان میں ہونے والے نفرت آمیز مذہبی واقعات اور ان کی تفصیلات کو ایک کالم میں سمیٹنا ممکن نہیں جن کے لیے بہت ساری کتابیں بھی کم معلوم ہوتی ہیں۔ ہندوستان کے حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی سطح سے لے کر عام آدمی تک اور ہر شعبہ زندگی سے منسلک ہندو غیر ہندووں کے خون کے پیاسے ہیں۔ یہ تھا وہ ہندوستان جس کے لیے مولانا عبدالکلام آزاد نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ اب میں اس کالم کا اختتام مولانا کی ایک اعترافی بیان سے کرنا چاہوں گا۔

2 فروری 1958 کو مولانا آزاد کا انتقال ہوگیا ان کا مزار دہلی کی جامع مسجد کے پاس موجود ہے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی تہلکہ خیز کتاب انڈیا وِنز فریڈم، شائع ہوئی۔ مولانا آزاد نے اس کتاب میں لکھا:

"دس سال بعد میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو تسلیم کرتا ہوں کہ مسٹر جناح نے جو کچھ کہا، اس میں زور تھا، کانگریس اور لیگ دونوں اس سمجھوتے (کابینہ مشن منصوبہ) میں فریق تھیں اور ایسا مرکز، صوبوں اور گروپوں میں تقسیم کی بنیاد پر ہی ہوا تھا کہ لیگ نے منصوبے کو منظور کیا تھا"۔

"کانگریس نے شک کا اظہار کرکے دانش مندی کا ثبوت دیا اور نہ ہی وہ حق بجانب تھی۔ اگر وہ ہندوستان کے اتحاد کی حامی تھی تو اسے غیر مبہم انداز میں منصوبے کو منظور کر لینا چاہیے تھا۔ پس و پیش نے ہی مسٹر جناح کو ہندوستان کی تقسیم کا موقع فراہم کیا"۔