پاکستان میں منشیات کی روک تھام اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی شروع دن سے ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں جاری جنگ کی وجہ سے پاکستان میں منشیات خصوصاً ہیروئن، افیون اور چرس کی ترسیل میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد سے پاکستان مختلف حکومتوں کے تحت منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور ان کی سماجی شمولیت کے لیے مختلف اقدامات کرتا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اس سلسلے میں متعدد منصوبے اور پالیسیاں متعارف کروائی ہیں۔ حالیہ برسوں میں صوبائی حکومت کی جانب سے منشیات کی روک تھام اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس عمل میں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے دونوں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر نگرانی، نشے سے صحتیاب ہونے والے 1240 افراد میں چھ کروڑ بیس لاکھ روپے کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ ہر فرد کو پچاس ہزار روپے کی عیدی دی گئی، جبکہ صحتیاب ہونے والے 34 افغان باشندوں کو بھی یہ امداد فراہم کی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے 13 مارچ کو نشے سے صحتیاب ہونے والے افراد کو ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے کی تقریب کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ انہیں پچاس پچاس ہزار روپے کی عیدی دی جائے گی جس پر حال ہی میں عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا یہ اقدام نہ صرف ایک مثبت عمل ہے بلکہ معاشرتی ذمہ داری کی بہترین مثال بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے صحتیاب افراد کو مالی امداد فراہم کرنا ان کی زندگی کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔ یہ امداد انہیں ایک نئی شروعات کرنے کا موقع فراہم کرے گا جس سے وہ باعزت روزگار کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم اس پروگرام کے کچھ پہلو بھی قابل غور ہیں جن میں پائیدار عمل درآمد کی کمی سر فہرست ہے۔ ایک بار کی مالی امداد کافی نہیں ہے۔ ان افراد کو مستقل روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ دوبارہ منشیات کی جانب نہ لوٹیں۔ اس امداد کی تقسیم کے بعد ان افراد کی زندگیوں پر نظر رکھنا اور ان کی بحالی کو مانیٹر کرنا ضروری ہے۔ ان افراد کو ہنر مند بنانے اور معاشرتی دھارے میں شامل کرنے کے لیے تعلیمی اور تربیتی پروگرامز کی فراہمی بھی اشد ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کا یہ اقدام ایک مثبت پیش رفت ہے مگر اسے مکمل کامیابی حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی، پائیداری اور بہتر نگرانی کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت ان افراد کی بحالی کو جاری رکھنے کے لیے مستقل پروگرامز متعارف کرائے تو یہ معاشرتی بحالی کے عمل میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ امید ہے دیگر صوبے بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی اپنے اپنے صوبوں میں اس طرح کے اقدامات کرکے نشے میں ملوث افراد کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے ان شا الله۔