آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دو ایام جاری رہنے والے اجلاس میں ن لیگ کی حکومت کیجانب سے میاں نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بطور وزیر اعظم پاکستان انکی پالیسیوں اقدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پاس کی گئی جبکہ حکومت اپوزیشن دونوں اطراف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت میں پیش کردہ قرارداداوں کی منظوری دی گئی نیز شریعت کورٹ کو ہائی کورٹ میں ضم کرنے کے پیش کردہ قانون کی بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا جسکی ڈائریکشن سپریم کورٹ نے جاری کی تھی اور قانون ساز اسمبلی کی مجلس منتخبہ کے اجلاس میں تمام مسالک مذہبی جماعتوں کے اکابرین آئینی ماہرین کو خصوصی خصوصی طور پر مدعو کرکے اعتماد میں لیا گیا جسمیں وزیر اعظم فاروق حیدر نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے کم وبیش پانچ گھنٹے کی نشست میں علماءکے خیالات سنے اور اتفاق رائے کے پیدا ہونے سے ثابت ہوا کہ حاکمانہ طرز عمل کے بجائے فکر و عمل سمجھنے سمجھانے اور بات کرنے برداشت سے کام لینے کا حوصلہ آسانیاں پیدا کردےتا ہے جسکے نتیجہ میں اپوزیشن بھی انکے کردار پر تعریف کئے بغیر رہ نہ سکی اگر یہی طرز عمل تعلیمی پیکیج کے ایشو پر اختیار کیا جاتا تو یہ عدالتوں میں جائے بغیر کب کا حل ہوگیا ہوتا اچھا کیا حکومت نے اس ایشو پر اسمبلی اجلاس میں بات نہیں کہ بلکہ جو طرز عمل شریعت کورٹ کے ایشو پر اختیار کیا وہ سب ہی امور پر جاری رکھا گیا تو بہت سے ایشو پید ا ہی نہ ہونگے۔ شریعت کورٹ کے معاملے میں وہی ہوا جو حکومت چاہتی تھی اور اسکی ٹھیک سمت تھی صرف لفظوں کانئے انداز میں انتخاب کیا گیا اور سب کچھ ٹھیک ہوگیا تاہم یہ مذہبی جماعتوں سب مسالک کے اکابرین کیلئے سوال ہے کیا ایک مسلم اکثریت بلکہ ستانوے فیصد آبادی والے ملک ریاست معاشرے میں جماعتوں اداروں وغیرہ کا نام اسلام کے مطابق ہونا ضروری ہے یا پھر اسلام شریعت کا ڈھنڈورہ پیٹ کر جو چاہے مرضی ہوتا رہے جیسے تضاد بھرے معاشرے کے ماحول کے بجائے عمل سے ثابت کیا جائے تعلیمات اسلام کا حسن انسانیت کی معراج کیا ہے جیسا کہ اسمبلی اجلاس میں ہی فائزہ احسن اور ملک نواز کے توجہ دلانے پر وزیر قانون راجہ نثار کو کہنا پڑ گیا ہمارے معاشرے میں شادیوں پر گھروں میں چراغاں ایک ماہ تک کیا جاتا ہے اور کنڈے لگا کر میٹر بند کرتے ہوئے بجلی چوری کی جاتی ہے جہیز کے حوالے سے پانچ ہزار تک اخراجات کا قانون ہے مگر اس پر عمل نہیں کیا جاتا اور وزیر اعظم فاروق حیدر نے بھی کہا شادی ہالوں میں اوقات کار کی پابندی کرائیں گے مگر لوگوں کو خود کو بھی شعور جرات کا مظاہر کرنا ہوگا یہ وہ اصل ناسور ہے جس نے حکومتی اداروں سے لیکر سب شعبہ جات بلکہ ستانوے فیصد معاشرے کو اپنے رنگ میں رنگا ہوا ہے کہ دوسروں کیلئے اسلام شریعت اصول قانون پسند کیئے جاتے ہیں اور اپنی باری پر یہ سب بھلا دیئے جاتے ہیں اگر موجودہ اسمبلی کے اندر بیٹھے سب ہی ممبران شادی جہیز جیسے فرض کو وبال جان بنانے کے عمل سے لیکر سرکاری محکموں خصوصاََ عدل و تعلیم کے شعبوں میں اپنے ایوان کے قانون پر عمل کرنے کا حلف کرتے ہوئے لازمی پاسداری کریں تو نیچے تک عمل کرانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ شریعت کورٹ کے معاملے پر حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید سردار عتیق احمد اور سردار خالد ابراہیم عبدالماجد خان دیگر نے متفقہ پا س کرکے اچھی مثال اور ماحول قائم کیا ہے یہ عام آدمی تک قائم کیا جاسکتا ہے تاہم ن لیگی ممبر اسمبلی چوہدری یٰسین گلشن کی طرف سے بھارتی فائرنگ سے ایل او سی کے متاثرہ عوام کے مصائب پر دکھ درد کا اظہار انکی امداد دادر سی نہ ہونے پر مایوسی کے موقف پر وزیر اعظم کی طرف سے یہ کہنا وہ بھارتی فائرنگ نہیں روک سکتے متاثرین کی املاک کے نقصان پر تخمینہ معاوضہ 50 کروڑ روپے لگا ہے کو کیا کہا جائے؟ متاثرین یہ جانتے ہیں بھارتی فائرنگ نہیں رک سکتی مگر انکے پاس جا کر انکے حوصلے بلند کرنا اور جائز امداد تعاون کے جو اعلان گزشتہ 9,10 ماہ سے آپ اور آپ کے وفاقی وزراءکرتے آرہے ہیں ان پر 10 فیصد عملدرآمد نہ ہونا اسلام آباد سرکار کی نا اہلی ہے یا پھر لاتعلقی ہے جسطرح وزیر خارجہ خواجہ آصف نے دوران انٹرویو پرجوش انداز میں کہا ہے انکے دوروں میں ترکی چین ایران نے کشمیر پر حکومت پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے عزم دہرایا ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے جبکہ ان کے مطابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان کے آمدہ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میں کشمیر کی آواز گونجے گی جیسے خیالات عزم و ہمت خوصلہ دینے کی ایل او سی کے عوام کو بھی ضرورت ہے انکو گولہ باری فائرنگ سے محفوظ رکھنے کیلئے بینکرز اور اشیاءخوردنوش کے حصول انتظامات یقینی بنانا حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کی پہلی ذمہ دار ی بنتی ہے؟