1. ہوم
  2. کالمز
  3. اجمل کھوکھر
  4. یرغمال عمران اور الیکشن 2018

یرغمال عمران اور الیکشن 2018

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اس وقت انسان اس مرض مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے" ( خوشامد- سر سید احمد خان )

عمران خان بھی اس بیماری میں کچھ عرصے سے مبتلا ہیں اس بیماری کی شدت کا احساس دن بدن واضح ہو رہا ہے، ایک خوشامدی گروہ نےخان صاحب کو یرغمال بنا لیاہے جواسے ایوب خان کے گروہ کی طرح" سب اچھا ہے" کی رپورٹ دیتے ہیں۔ لیکن حقائق اس کے بر عکس ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سےعمران خان کا عوام تو دور پارٹی ورکر کے درمیان کمیونیکیشن گیپ پیدا ہو گیا ہے، لاہور کے NA-120 کے ضمنی الیکشن کی کمپین میں بھی ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ پارٹی کی طرف سے حسبِ ضرورت تعاون نہیں کیا گیا، یہ تو ڈاکٹر صاحبہ کاعوام تک رابطہ اور تعلق تھا جو ووٹرز کو کھینچ لایا۔

اس بیماری نے تو بڑے بڑے بادشاہوں کو گلیوں کی دھول چٹا دی۔ چند مخلصین جن میں سر فہرست ایک نامور کالم نگار جناب ہارون الرشید بھی تھے نے خان صاحب کو ان خوشامدیوں سے الگ ہونے اور مسائل پر توجہ دلانے کی کوشش کی لیکن افسوس کہ مایوس ہو کر وہ خود پارٹی سے الگ ہو گئے واضح رہے کہ نواز شریف کو انہی خوشامدیوں کی وجہ آج یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ سمجھدار لوگ ہمیشہ دوسروں کے تجربات سے سیکھتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی جیسی جماعت جس کی بنیاد بھٹو صاحب نے رکھی وہ جانتے تھے کسی بھی پارٹی کی اصل طاقت نچلے طبقے کے لوگ ہی ہوتے ہیں اس لئے اس نے نچلے طبقے تک اختیار منتقل کیئے ہر خاص وعام کو اہیمت دی جس کے نتیجے بھٹو صاحب امر ہو گئے اور پارٹی لا فانی مقام تک جا پہنچی اس کے باوجود بے نظیر بھٹو صاحبہ گلی محلے کی گندی گلیاں اور نالیاں پھلاںگ کر بوسیدہ گھروں میں رہنے والے لوگوں تک جاتیں۔ شہباز شریف کو دیکھیں وہ بھی ممکنہ حد عام لوگوں تک کا ناتا برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جمہوریت میں عوام کتنی طاقتور ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی ایک نئی جماعت ہے اسکے پاس اتنا بڑا کوئی کریڈٹ نہیں جتنا کہ عوام کی طرف سے اسکو کر مینڈیٹ دیا جا رہا ہے دراصل پی ٹی آئی کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ دوسری پارٹیوں کے شاہانہ مزاج لیڈروں کی سفاک قسم کی پالیسیاں ہیں جنہوں نے عوام کو بالکل مایوس کر دیا اور کوئی آپشن نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی ہی امید کی آخری کرن بن گئی۔

الیکشن 2018 قریب تر ہیں لیکن پی ٹی آئی میں سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی کے۔ پی۔ کے میں چار سالہ حکومت کے بعد صوبے میں حسبِ توقع کارکردگی بالکل نہیں ہے۔ بلدیاتی نظام میں بالکل ناکامیابی جس کا وعدہ اقتدار سنبھالنے کا تین ماہ بعد کر دینے کا تھا، احتسابی عمل میں سست روی حلانکہ پی۔ ٹی۔ آئی احتساب پر ہمیشہ زور دیتی آئی ہے۔ کرپشن کے سکینڈلز اور پاناما پیپر کیسز، پارٹی میں پائے جانے والے اختلافات وغیرہ وغیرہ ان سب معاملات کے منظرِعام پر آنے سے پی۔ ٹی۔ آئی کے مقبولیت کے گراف میں کمی آئی ہے عوام اور ورکرز کا بھروسہ ٹوٹا ہے۔ کے۔ پی۔ کے حکومت خان صاحب کیلئے ایک ٹیسٹ ڈرائیو تھی لیکن اس ٹیسٹ میں سے خان صاحب نے کتنے مارکس حاصل کئے اسکا فیصلہ خود کر لیں۔ اس وقت منظم ہو کر الیکشن کیلئے ورک کیضرورت ہے۔ کمیونیکیشن گیپ ختم کیا جائے، ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہونے والی بڑی غلطیوں کی معافی مانگ کر عوام میں پھر سے ایک اعتماد کی فضا پیدا کی جائے۔ لیکن کوئی سنجیدہ ایکشن پلان اور حکمت عملی کا فی الحال فقدان نظر آ رہا ہے یا پھر شاید خان صاحب زرداری صاحب کی پالیسیوں اپنانا چاہ رہے ہیں یعنی جیتنے والے گھوڑوں پہ ہی پیسہ لگایا جائے۔ بارگیننگ کی جائے۔ اگر خان صاحب کی یہی روش رہی تو انجام بھی باقیوں جیسا ہی ہو گا۔ یاد رہے وہ توبہت کچھ پا کر گرے ہیں لیکن خان صاحب توصرف چوٹ کھا کر ہی گریں گے۔