1. ہوم
  2. کالمز
  3. اجمل کھوکھر
  4. والدین اور بچوں میں بڑھتا خلا

والدین اور بچوں میں بڑھتا خلا

والدین اور اولاد کے درمیان محبتوں اور اعتبار کا رشتہ فطری طور پر ایک جان دو قالب کی طرح ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی حالات اور ماحول کے سبب پیچیدہ بھی ہو جاتا ہے دراصل ان رشتوں کے تقدس کا قیام و دوام تربیت پر منحصر ہوتا ہے۔ ماں کی تلخ و شیریں محبتوں اور باپ کی ناقدانہ تعقل سے بھر پور شفقتوں سے ہی اولاد کی تربیت انجام پاتی ہے جہاں اولاد کی خون جگر سے پرورش کی جاتی ہے انہیں عہد طفلی سے ہی قلب و ذہن کو دین و دنیا اور اخلاق و اقدار کی تعلیم سے منور رکھا جاتا ہے۔ تربیتی دور میں ہی اولاد کے قلب و ذہن میں ذمہ داری کا احساس پروان چڑھا یا جاتا ہے۔ درس و تدریس کے علاوہ عملی طور پر رہنمائی کی جاتی ہے، اورمختلف قسم کی مصروفیات سے اولاد کی ذہنی، فکری، عملی اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشونما کی جاتی ہے۔ ایسے تمام تربیتی مراحل سے گزر کر اولاد پرورش پاتی ہے اور پھر والدین کے ساتھ رشتوں کا ریشم زندگی بھر کے لئے مضبوطی اختیار کرلیتا ہے۔ ۔ لیکن تیز رفتار تبدیلیوں کے اس دور میں والدین اور اولاد کے مابین بے اعتباری بڑھتی جارہی ہے۔ ۔ تہذیب جدیدہ نے جہاں اکثر اولاد کو سہل پسند اور غیر ذمہ داربنا دیاہے انہیں والدین نے غیر ضروری توقعات وابستہ کرنی شروع کردی ہےاور یہی وجہ ہے کہ اب نازک رشتوں کا ریشم الجھنے لگا ہے۔ موبائل کے بے جا استعمال نے یہ حال کردیا۔ کچھ امیر والدین اپنی نوجوان تعلیم یافتہ اولاد کو "کاونسلنگ" کی خاطر صلاح کار کے پاس لے جاتے ہیں یا یہ کہہ لیں کہ انہیں نصیحت دلوانے اور صلح کار کی فضیحت کروانے لے جاتے ہیں جبکہ "کاونسلنگ" کی غرض و غایت اعلی تعلیم و روزگار کے حصول و فروغ کی راہ میں رہنمائی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ والدین اپنی نوجوان اولاد سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ جلد از جلد تعلیم سے فارغ ہو جائیں اور بر سر روزگار ہوجائیںاور اکثر و بیشتر نوجوان خود بھی یہی چاہتے ہیں لیکن مادیت پرستی اور مقابلہ بازی کے اس دور میں سب کچھ اتنا آسان نہیں رہا برقی و اطلاعاتی انقلاب اور ضروریات زندگی کی فراوانی نے تعلیم کے حق میں جتنی مراعات فراہم کیں ہیں اتنی ہی تربیت کے لئے مشکلیں بھی پیدا کر دی ہیں، خاص کر ان والدین کے لئے جو ایسی مراعات کا مناسب استعمال نہیں جانتے۔

عہد حاضر کا یہ بھی المیہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان رشتوں کا ایک ایسا خلا پیدا ہورہا ہے جو عائلی اقدار کے زوال پذیر ہونے کا باعث بن رہا ہے اور آخر کار معاشرہ کے غیر مستحکم ہونے کا بھی اور جس کا اثر مختلف واقعات کی صورت میں نظر آتا ہے، کہیں نوجوان ناراض ہوکر گمشدہ ہو جا رہا ہے تو کہیں والدین کے ساتھ رہتے ہوئے بھی کہیں اور رہتا ہے، کہیں توقعات پر پورا نہیں اترتا تو کہیں بے جا توقعات کا شکار ہو جاتا ہے۔ کہیں نافرمانبردار قرار پارہا ہے تو کہیں لا پرواہ۔ زیادہ تر متوسط طبقہ ہی ایسے حالات کا شکار نظر آتا ہے جدید معاشرہ کا یہ بھی المیہ ہے کہ متوسط طبقہ اب اپنے آپ کو متوسط طبقی یہ نہیں سمجھتا جو مادی اشیاء سامان تعیش کے زمرے میں کبھی آتیں تھیں وہ اب ضروریات زندگی کے زمرے میں شامل ہو گئیں ہیں اور سب آسانی سے دستیاب بھی ہیں بلکہ انکی فراوانی ہے۔ اس لئے ضروریات زندگی کا حصول اب متوسط طبقہ کے نوجوانوں میں ذمہ داری کا احساس جگانے کا محرک نہیں رہا، بلکہ اس فراوانی نے اکثر کو لاپرواہ، آسان پسند، نافرمانبردار اور غیر ذمہ دار بنا دیا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی پہلو ہے جو والدین اور اولاد کے مابین رشتوں میں بے چینی اور بے اعتباری کا باعث ہوا ہے۔ وہ دور کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ جب نصیحتیں کہی اور سنی جاتی تھیں بلکہ اکثر ان پر عمل پیرا بھی ہوا جاتا تھا۔ لیکن اب نہ ہی نصیحتوں کے وہ پیرائے باقی رہے اور نہ ہی عمل کا جذبہ ان دنوں بھی جوانی اتنی ہی دیوانی ہوا کرتی تھی جتنی آج ہے، لیکن ا سوقت نصیحت سے اسقدر د نظر انداز نہیں ہوا کرتی تھی جس قدر ان دنوں۔ وہ بھی کیا دور تھا جب پیکر تقدس مائیں نماز فجر کے بعد رقت انگیر لہجے میں پکارا کرتیں، اول تو اکثر مائیں آجکل دعاوں کے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتیں اور کچھ روزگار کی چکی میں پس کر رہ گئں۔ دور حاضر نے انقلابات کے نام پر کیسے کیسے گل کھلائے ہیں۔ دور حاضر کے والدین اپنی ذمہ داریوں اور ترجیحات میں توازن قائم نہیں رکھ پاتے۔ عصر حاضر کی ترقی کی دوڑ میں شمولیت کے چکر میں باپ روزگار سے کچھ یوں بر سر پیکار رہتے ہیں کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کب اولاد ماوں کے سر چڑھ کر قد آور ہو گئی اور تربیت میں درکار رشتوں کے ریشم میں باپ کا کوئی حصہ بہت کم رہا، جبکہ باپ کے حصہ کا ریشم ہی دراصل ایسے رشتوں کی پختگی کا باعث بنتا ہے، عموما مائیں تو خود مجسم ریشم ہوتیں ہیں۔ دولت مند خاندان کا مسئلہ ذرا مختلف ہوتا ہے، ان میں اکثر غیر ممالک میں روزگار و تجارت سے بر سر پیکار باپ کی غیر حاضری یا عدم توجہی مختلف مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ہم سب کا المیہ ہے ا ولاد کے ساتھ غیر متوازن محبتیں اور شفقتیں ہی دراصل تربیت میں کوتاہی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔ پودوں کی آبیاری میں دھوپ کی تمازت، موسم کی بے رخی، ضروری تراش خراش، نمی و خشکی، سختی اور نرمی، دردمندی اور بے دردی اور ایسے ہی دیگر لوازمات شامل نہ ہوں تو پودے بھلے ہی فطری صلاحیتوں کی بنا پر قد آور ہوجاتے ہو ں لیکن سایہ دار نہیں ہوتے۔