1. ہوم
  2. کالمز
  3. اجمل کھوکھر
  4. پاکستان ڈوب رہا ہے

پاکستان ڈوب رہا ہے

پاکستان میں کرپشن اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ اب ہمیں یہ منفی نہیں بلکہ منفعت بخش فعل لگتا ہے، عام طور پر ہم کرشپن کا مطلب صرف رشوت ہی سمجھتے ہیں لیکن ہر غیر منصفانہ عمل کے ذریعے ذاتی مفاد کا حصول کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان کے ہر ادارے اور ہر طبقے میں کرپشن کا راج ہے بلکہ یہ کہیں کہ کرپشن ہماری معاشرت بن چکی ہے۔ سی۔ پی۔ آئی 2016 (corruption perception index ) میں پاکستان 116/176 رینکنگ پہ تھا۔ یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ایک ملک جو اس لئے معرض وجود میں آیا کہ اس میں ہم اسلامی اصولوں کا نفاذ کریں گے اور اب جو دنیا دیکھ رہی ہے کیا یہی اسلامی اصول ہیں؟

درحقیقت ہمارے معاشرے نے اپنی اخلاقی اقدار کو بدل کر رکھ دیا ہے جہاں پہلے ایماندار اور فرض شناس آدمی کی قدر تھی اب اسکی جگہ دولت مند اور با اثر افراد کو دے دی گئ ہے۔ یہی کوئی تیس چالیس پہلے ہمارا معاشرہ بے ایمان اور بد دیانت لوگوں کو دھتکار دیتا تھا ان سے سوشل بائیکاٹ کیا جاتا۔ کرپشن یعنی کسی غیر منصفانہ فعل کے منظرِعام پہ آنے کی وجہ سے لوگ شرمندگی کے باعث خود کشی کر لیتے تھے لیکن آج جو جتنا کرپٹ اور مالدار ہے اتنا ہی باعزت سمجھتے ہیں ایسی روش ہمیں چھوڑنی چاہیئے کرپٹ افراد کو کبھی بھی مہذب نہیں سمجھنا چاہیئے۔

پاکستان کا ہر ادارہ اور معاشرے کا ہر طبقہ کرپشن کی بڑھوتری میں اپنا نمایاں کردار ادا کر رہا ہے المختصر پئین سے پی- ایم تک ہرشخص اپنی بساط جتنی کرپشن کر رہا ہے سوائے چند ایک کو چھوڑ کر۔ حتی کہ مذہبی طبقہ بھی اس دوڑ میں برابر شامل ہے آج کل مفتی بھی لڑکیوں کی بانہوں میں جھولنے کو ماہِ صیام کے تقدس سے زیادہ ترجیح دے رہے ہیں)واضح رہے کہ میرا اشارہ صرف اور صرف مفتی قوی کیطرف ہے( اصلاحِ معاشرہ جن کی بنیادی زمہ داری ہے۔ یاد رہے پاکستان کو حالتِ موجودہ تک لانے میں اشرافیہ اور سیاستدانوں کا مرکزی کردار ہے جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو انگریزی حکومت کی بھرتی کی ہوئی اشرافیہ آزاد پاکستان میں آ کر اعلی عہدوں پہ فائز ہوئی اس نے چند کھوٹے سکوں سے مل پاکستان کی بنیادوں کے لئے دیمک کا کام کیا، بد قسمتی سے قائدِاعظم کو نظامِ پاکستان کی از سرِنو ترتیب و تدوین کا وقت ہی نہیں ملا اور لیاقت علی خان جیسے مخلصین کو راہ سے ہٹا دیا گیا 'پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی' 1960 کے اواخر میں ہماری اشرافیہ کی کرپشن کے کارنامے دنیا بھر میں گونجںے لگے، پنجابی مسلم اشرافیہ کے کمالِ فن سے ہی پاکستان دو لخت ہوا، بھٹو کے دور میں کچھ معیشت کی بہتری کے لئے اور زرعی اصلاحات کی گئیں تو قابل تحسین اقدام تھے لیکن آخر میں اس نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے سب کچھ داوَ پر لگا دیا۔

کرپشن کا کہیں کوئی آسکر ایوارڈ یا چیمپیئن ٹرافی ملتی توکیا مجال ہے کوئی پاکستانی سیاستدانوں سے جیت پاتا۔ سید یوسف رضا گیلانی کو کرپشن کی وجہ سے پہلے نااہل ہونے والے وزیراعظم اعزاز حاصل ہے۔ بد قسمتی سے نواز شریف دوسرے نمبر رہے۔ 2012 کی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے بارہ ٹریلین ڈالر کھو دِیے یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دورِ حکومت تھا اس دور کی کرپشن کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ موجودہ حکومت بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے پیچھے رہ جانے والی نہیں مسلم لیگ۔ ن یعنی شریف خاندان اور اسکی تجر بہ کار ٹیم کے کارنامے بھی آجکل انٹرنیشنل میڈیا تک کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ آج بھی پاکستان کے تقریبا دو سو ارب ڈالر ($200,000,000,000) سوئس بینکس میں پڑے ہیں جنکا اعتراف خود اسحاق ڈار بھی کر چکے ہیں۔ کرپٹ عناصر نے پاکستان کی حالتِ زار دیکھکر بیرونِ ملک نقل مکانی شروع کر دی بیرون ممالک کے ریزیڈنس/اقامہ لیکر اربوں روپے بیرونِ ملک بھیج رہے ہیں۔ ایف آئی اے نے ایک رپورٹ تیار کی تھی جسمیں 2500 پاکستانیوں کے نام تھے جنہوں نے بیرونِ ملک اپنی جائیدادیں بنائیں اور یہ ثبوت بھی نہیں تھے کہ ان کے پاس یہ دولت کہاں سے آئی لیکن جن اداروں نے ان افراد کے خلاف کارروائی کرنی تھی انہوں نے اس رپورٹ کو منظرِعام سے غائب کر دیا کیوںکہ انکی اشرافیہ غیر ملکی شہریت اور جائیدادیں رکھتی ہے۔ اسی طرح کی بیشمار زیادتیاں ہیں جو وطنِ عزیز کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس مافیا/لٹیروں نے پاکستان کو اپنا وطن کبھی نہیں سمجھا اور ان کے پاس لندن، دبئی، امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ جا کر رہنے اور بزنس کےلئے سرمایہ ہے لیکن ہمارے ایسا کوئی اختیار نہیں، ہم نے اسی ملک میں ہی رہنا ہے تو بھلا ہم کیوں اسکو اجاڑ رہے ہیں؟ ہمیں بھی جہاں موقع ملتا ہے ہم بھی اسکا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں یہی سوچ کر کہ بڑے بڑے سیاستدان اور بیوروکریٹ اس ملک کو کھا رہے ہیں میں کیوں نہ فائدہ اٹھائوں؟

ہمارا وطن ڈوب رہا ہے آوَ اسکو لٹیروں سے بچائیں اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنے حصے کی شمعیں جلائیں۔