کیا خبر شام کی بارش میں کہیں ڈھونڈتا ہو
جسم کے بھیگتے جاتے درو دیوار کے ساتھ
بال کھولے ہوئے
جسم کی مہکار کے ساتھ
اپنے بے رحم سے ملبوس میں قید
برہنہ ہونٹوں کی چہکار کے ساتھ
کیا خبر دیکھتا ہو
ایک چہرے کے لیئے سارے چہرے
سرمئی انکھوں میں کاجل پہنے
دید کی أگ لیئے
خواہشوں سے بھرے انگار کے ساتھ
کیا خبر، کب میں اسے أٶں نظر
کسی برگد کے تلے
کسی کھنڈر میں چھپی
ویران سی خاموشی میں
یا کسی خواب کے دوراہے پر
اپنے چہرے پہ اگے درد کے زنگار کے ساتھ
کیا خبر شام بھی دھوکہ دیکر رات بن جائے
اور وہ ڈھونڈتا رہ جائے مجھے
راستہ دور تلک تنہا ہو
کسی امید کی بیگار کے ساتھ
کیا خبر تھک کے کہیں
اسی درگاہ پہ جا بیٹھا ہو
بے پناہ درد سے بوجھل
کسی دیوار کے ساتھ
کیا خبر
کس کو خبر
تیز بارش میں بھلا کون ملا کرتا ہے
بس اداسی سی نظر أتی ہے أزار کے ساتھ