حسینؑ کی یہ محبت ہے اور مسلسل ہے
یہ کبریا کی عنایت ہے اور مسلسل ہے
یہ عرش، کرسی و کوثر، یہ سلسبیل تری
حسینؑ تیری حکومت ہے اور مسلسل ہے
نصیب میں جو نہ ہو وہ حسینؑ سے مانگو
یاں مانگنے کی اجازت ہے اور مسلسل ہے
پھر العجل کی صداؤں کا شور ہے ہر سو
حسینؑ تیری ضرورت ہے اور مسلسل ہے
خدا کا شکرکبھی بھی قضاء نہیں ہوتی
مری نماز ولایت ہے اور مسلسل ہے
حسینؑ فاتح عالم ہے طے ہوا ہے بتول!
یزید کے لیے لعنت ہے اور مسلسل ہے
عدو سمجھتا ہے ھم قتل ہو رہے ہیں بتول!
حضور! یہ تو شہادت ہے اور مسلسل ہے