کپڑے مرے حسینؑ کے بنوا کے لے گیا
جبریل رب کی مرضیاں آ آ کے لے گیا
آیا فلک سے روٹیاں لینے کو کس لیے؟
لنگر مرے حسینؑ کا منگوا کے لے گیا
اور ماتمی حسینؑ کا اتنا ہے لاڈلا
قسمت مرے حسینؑ سے لکھوا کے لے گیا
جنت کو اِس قدر کیا سستا حسینؑ نے
حُر آکے اپنی جھولی کو پھیلا کے لے گیا
فطرس پروں بغیر بہت ہی اُداس تھا
آ کر حسینؑ سے نئے بنوا کے لے گیا
آئی ندا نصیب میں بیٹے نہیں ترے
راہب مرے حسینؑ سے لکھوا کے لے گیا
جس کو کہیں سے کچھ نہ ملا باخدا بتول!
آیا درِ حسینؑ سے وہ آ کے لے گیا