1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ابنِ فاضل/
  4. بس کردو بھائی، ورنہ ازالہ تو کرو

بس کردو بھائی، ورنہ ازالہ تو کرو

ایک عام سگریٹ کا وزن ایک گرام سے ایک اعشاریہ تین گرام تک ہوتا ہے۔ جس میں آٹھ سو سے ہزار ملی گرام تک تمباکو اور اس کے باہر والے کاغذ کا وزن دوسو سے تین سو ملی گرام ہوتا ہے۔ تمباکو میں بیالیس فیصد کاربن اور کاغذ میں قریب چالیس فیصد کاربن ہوتا ہے۔ گویا جب ایک سگریٹ جلایا جاتا ہے تو لگ بھگ چار سو پچاس ملی گرام کاربن جلتا ہے۔ جس سے ایک اعشاریہ چھ پانچ گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوا میں شامل ہوتی ہے۔

لیکن یہ تو وہ براہ راست کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے جو صرف سگریٹ کے جلانے سے فضا میں شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تمباکو اگانے(فصل کی تیاری کے لیے ٹریکٹر کا ایندھن، کھاد، سپرے کی تیاری اور اس کے چھڑکاؤ کے عمل میں بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ) سے لیکر اسے خشک کرنے اور پھر اس سے سگریٹ میں بھرنے کا قابل بنانے تک، اس کے گرد موجود کاغذ اور اس کی ڈبی میں لگے گتہ بنانے میں، سگریٹ کے فلٹر کے سیلولوز ایسیٹیٹ اور اس پر چڑھی پلاسٹک کی پنی بنانے میں، پھر اس کو گاہک تک پہنچانے میں مجموعی طور پر جو کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہوتی ہے اس کا تعین اس مقدار سے کہیں زیادہ کیا گیا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق جو دوہزار اٹھارہ میں جرنل آو اینوائرمنٹل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہوئی، کے مطابق ایک سگریٹ کی تیاری میں بننے والی کل کاربن ڈائی آکسائیڈ چودہ گرام ہوتی ہے۔ اب تصور کریں کہ اگر کوئی شخص بیس سگریٹ روزانہ پیتا ہے تو وہ روزانہ دو سو اسی گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سالانہ ایک سو دو کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کرتا ہے جو اس کو زندہ رہنے کے لیے ناگزیر آکسیجن کے استعمال سے بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ ہے۔

صرف سگریٹ کے باہر لگنے والا کاغذ سالانہ بیس سے پچیس لاکھ ٹن سالانہ استعمال ہوتا ہے اور قریب اسی قدر کاغذ اس کی پیکنگ اور ڈبوں وغیرہ کی تیاری میں لگتا ہے۔ ایک کلو کاغذ کی تیاری میں محتاط اندازے کے مطابق بھی ڈھائی سو لیٹر صاف میٹھا پانی استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح صرف سگریٹ نوشی کے لیے بننے والے کاغذ کے لیے سالانہ ایک کھرب لیٹر پانی ضائع ہوتا ہے۔

سگریٹ پینے والے اپنی صحت تو برباد کرتے ہیں ہی ماحول پر جس قدر ان کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی ایک جھلک آپ کے سامنے رکھی ہے۔ اب اگر آپ انتہائی مجبور ہیں اور بالکل بھی سگریٹ چھوڑ نہیں سکتے تو کم از کم یہ تو کریں کہ اس کی وجہ سے ماحول پر پڑنے والے برے اثرات کا کچھ ازالہ ہی کردیں اور کچھ نہیں تو جو سالانہ ایک سو دو کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ صرف آپ کے بیس سگریٹ روزانہ کی وجہ سے فضا میں شامل ہورہی ہے اس کو برابر کرنے کے لیے درخت ہی لگادیں۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے EPA کے مطابق ایک درخت سال میں بیس سے پچیس کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔ اس حساب سے ایک ڈبیہ روزانہ پینے والے شخص پر اخلاقی طور پر لازم ہے کہ کم از کم پانچ سالم بڑے درختوں کی نشوونما اور حفاظت کا ذمہ لے۔

اور یہ کفارہ صرف اب کا ہے جو اس سے پہلے آج تک آلودگی پھیلائی کم از کم پانچ درخت اس کے لیے۔ تو اے صاحبان تمباکو نوش آج سے ہی اپنا دس درخت کا فرض پورا کرنے کی تیاری کریں۔ جو لوگ سگریٹ نوشی نہیں کرتے ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد تمام سگریٹ نوش دوستوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ دس درخت فی کس اپنی نگرانی میں پروان چڑھائیں۔ صاف ہوا میں سانس لینا ہمارا حق ہے اور آپ اپنے نشہ کی خاطر ہم سے ہمارا یہ حق نہیں چھین سکتے۔