1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ناصر عباس نیّر/
  4. آوار میں آوارگی

آوار میں آوارگی

مجھے جب بھی فرصت نصیب ہوتی ہے، میں آوار کا گز بن جاتا ہوں۔ صرف دیکھتا اور سنتاہوں۔ کسی انتخاب، ترجیح، پسند ناپسند کے بغیر۔ اپنے دیکھنے، سننے میں، اپنے کسی قدیمی خیال کی ملاوٹ کرنے سے باز رہنےکی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں ہر بار اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوتا ہوں۔ میں آوار کو رسول کے ماضی کی نظر سے نہیں، آوار کے اپنے حال کی روشنی میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ آوار بھی یہی چاہتا ہے۔ ہر زندہ شخص، زندہ بستی، زندہ شہر یہی چاہتے ہیں۔

آوار کی ایک ایک گلی میں پھرتا ہوں۔ آوار میں زیادہ گلیاں نہیں ہیں۔ آوار میں گلیوں سے زیادہ راستے ہیں۔ مجھے دونوں پسند ہیں۔ دیکھنے میں آوار کی سب گلیاں ایک جیسی ہیں، مگر جب آپ ایک گلی سے دوسری گلی میں جاتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ ہر گلی کی ایک اپنی، جدا دنیا ہے، خواہ چھوٹی ہی سہی۔ ہر گلی کی یہ ننھی سی جدا دنیا، اسی وقت محسوس کی جاسکتی ہے، جب آپ ہر گلی کی ہوا میں پھیلی باس کو محسوس کریں۔

ہر گلی کی ایک اپنی موسیقی بھی ہے، اسے بھی سنیں۔ یہ موسیقی بھی ایک طرح کی نہیں ہے۔ صبح، دوپہر، شام اور رات کو اس موسیقی کی تانیں، تالیں، سر الگ الگ ہوتے ہیں۔ گلی کی موسیقی، یہاں کے مکانوں، مکینوں، درختوں پر بیٹھے پرندوں، ادھر ادھر پھدکتے مینڈکوں، گلہریوں، جھینگروں اوریہاں چلنے والی ہوا کے رخ کے سبب وجود میں آتی ہے۔

اسی آوار میں کچھ گلیاں ایسی بھی ہیں، جہاں چلتے ہوئے، رسول حمزہ توف کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوجایا کرتی ہے۔ ان گلیوں میں وہ اکیلا نہیں ہوتا، اس کے آس پاس، اس کے دل کے قرب وجوار میں کئی چہرے، سائے، شعلے ہوتے ہیں، کہیں کہیں راکھ بھی اڑ رہی ہوتی ہے۔

رسول، اس کے باوجود، ان گلیوں میں جاتا ہے کہ گزرے دنوں کا ایک حصہ، رسول کے دل میں اور دوسرا ان گلیوں میں دفن ہے۔ صرف رسول ہی کو ان گلیوں میں کئی مزار نظر آتے ہیں، جہاں وہ دن کی تیز روشنی میں کچھ دیے جلاتا ہے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ان دیوں کی روشنی، اس کی شاعری کی سطروں کے اندر، زیریں اور بالا پڑتی ہے۔

میں آوار کی ندیوں کا غنا بھی سنتا ہوں۔ سلاک ندی کی نغمہ ریزی، آندی کوئسو سے جدا ہے، حالاں کہ اس کا جنم سلاک کی پسلی سے ہوا ہے۔ آوار کی ہر ماں، اپنی بیٹی کو اپنا گیت گانے کی اجازت دیتی ہے۔ سلاک کا پانی جب، ایک عالم سرشاری میں پتھروں سے متصل ہوتا ہے، نشیب میں ایک والہانہ پن سے، تیز تیز بہتا ہے تو وہ ایک گیت گاتا ہے۔ پانی کا گیت۔ پانی کا اپنا، قدیمی گیت۔ دور دراز علاقوں اور زمانوں سے جاری گیت۔

بالتورو گلیشئر جب آفتاب کی حدت سے، اپنی روح کے خزانوں کو بے دریغ لٹانے لگتے ہیں تو قراقرم کے سلسلوں میں ایک کائناتی آہنگ پھیل جاتا ہے۔ یہی آہنگ، پانی کے طوفانی، تباہ کن دھاروں کے ساتھ، تانڈو رقص کرتے ہوئے، سلاک ندی میں پہنچتا ہے۔ سلاک، اس آہنگ میں، اپنا سوزوساز شامل کرتی ہے۔۔ آوار کی مٹی کا سوزوساز۔ میں سامور ندی کے پاس بھی جاتا ہوں۔ اس ندی میں ایک اور طرح کی غنائیت ہے۔ کچھ دوردیس کی، کچھ آوارستان کی۔

آوار میں پرندوں کی قسموں کا شمار آسان نہیں۔ میں سنہری عقاب، باز، پہاڑی چڑیوں، کبوتروں، برفانی تیتروں، طوطوں، کوئل، بطخوں، کونجوں اور مہاجر پرندوں، سب کی آوازیں سنتا ہوں۔ ہر پرندے کی آواز کو، ذہن کے ایک خاص گوشے میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یوں سمجھیے، اپنے ذہن میں اس کا ایک جدا گھونسلہ بناتا ہوں۔ کبھی کبھی خود سے کہتا ہوں، رسول، تمھارے ذہن ودل میں کتنے گھونسلے، کتنے مکان، کتنے گھر، کتنے مزار بن گئے ہیں۔ تمھارے اندر جنگل بھی ہے، بستی بھی اور شہر بھی اور ہاں ایک ویرانہ بھی، جسے تمھارادل جانتا ہے، یا تمھاری شاعری۔

میں نے کئی بار سوچا ہے: پرندے چہچہاتے ہیں، یا بولتے ہیں؟ کیا ایک پرندہ فقط اپنے ہم جنسوں سے کوئی ضروری بات کہنے کے لیے چرچراچوں، کووکوو، کائیں کائیں کرتا ہے؟ میں نے آوار میں یا کہیں اور کوئی ایسا پرندہ نہیں دیکھا جو خوش الحان نہ ہو۔ حتیٰ کہ پہاڑی کوے بھی خوش نوا ہیں۔ جس طرح سب شاعر ایک درجے کے نہیں، اسی طرح سب پرندوں کی خوش الحانی کے بھی درجے ہیں۔

پرندہ ہو کہ آدمی جو خوش الحان و خوش گلو ہے، وہ محض روزمرہ کی کوئی بات اپنے ہم جنسوں سے نہیں کہنا چاہتا۔ اس کے مخاطب محض ہم جنس ہوتے بھی نہیں ہیں۔

پہاڑی مینا جب چوں چراااااچروں کرتی ہی چلی جاتی ہے تو ہر بار کسی خطرے، خوراک کے کسی ذخیرے کی طرف متوجہ نہیں کررہی ہوتی، وہ اپنے ہونے کا جشن منارہی ہوتی ہے، اس کی بلا سے کوئی اسے سنے نہ سنے۔ میں وقت کا حساب کیے بغیر انھیں سنتا ہوں تو مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہاں جتنے چرند پرند ہیں، سب اپنے ہونے کا جشن بھی مناتے ہیں اور اپنے ہونے کا المیہ گیت بھی گاتے ہیں، اوران گیتوں میں ہم انسانوں سمیت، آس پاس کی ہر چیز پر تبصرہ بھی کرتے ہیں۔

پرندے بہ ہر حال آوار کے مجذوب کی مانند نہیں ہیں، جسے اپنی خبر ہے نہ آس پاس کی۔ آوارستان کی کوئل کی خوش نوائی کا کوئی مثل نہیں۔ وہ جب کوکو کرتی ہے تو اس کی نوا پوری وادی میں تیرتی جاتی اور بازگشت پیدا کرتی ہے۔ لیکن کوئل کی خوش الحانی مجھے ایک الجھن میں بھی ڈالتی ہے۔ وہ اپنی ترنم ریزی سے مسحور کرتی ہے، مگروہ کاہل، دھوکے باز اور ظالم بھی ہے۔ وہ دوسرے پرندوں کے گھونسلوں میں انڈے دیتی ہے اور انھیں سینے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا وہ آوار کے اس شاعر کی مانند ہے جو امرا سے کہتا ہے کہ چوں کہ میں تم سب کے لیے شعر لکھتا ہوں، اس لیے تم سب میرے خاندان کی کفالت کرو؟

پرندوں کی مجلس میں کچھ وقت گزارنے کے بعد میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ اگر وہ آوار کی کہانی لکھتے۔۔ آوار کے موسموں، درختوں، پھلوں، طوفانوں، جنگل میں بقا کی ہر لمحہ جاری جنگ اور ہم انسانوں کی بستی کی کہانی لکھتے تو وہ کیسی ہوتی؟

میں آوار کے حشرات کودیکھتا اور ان کی ننھی صداؤں کو سنتاہوں۔ شہد کی مکھیوں کو دیکھنا مجھے سحر زدہ کردیتا ہے۔ شہد کی مکھی سے زیادہ، پھولوں کی باطنی دنیا کا کوئی رازدار نہیں۔ ہر پھول کے جدا رنگ، رنگوں اور پتیوں کا جدا پیٹرن، جدا مہک اور جدا رس ہے۔ شہد کی مکھی، رس کی رمز آشنا ہے۔ پھر وہ طرح طرح کے پھولوں کے جداجدا رس کو یک جاکرتی ہے۔ وہ ایک کیمیا گر ہے، لیکن مجھے اس کارقص پسند ہے۔ پہلے وہ جنگل کا جائزہ لیتی ہے، پھر وہ اپنے چھتے کے پاس جاکر رقص کی صورت اعلان کرتی ہے کہ چھتے سے کتنی دور، کس مقام پر، کس معیار کا رس دستیاب ہے۔ آوار کی تتلیوں کے پروں کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ آوار کے پھولوں کی پتیاں اڑ رہی ہیں۔ ان کے پروں پر باقاعدہ مصوری کی گئی ہے۔

ایک بار آوار کے ایک مصور نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ آوار کی تتلیوں کی مصوری میں عمر بسر کرسکتا ہے۔ آوار کے ٹڈوں کی چرچراہٹ، مجھے اس لیے پسند ہے کہ وہ اس آواز کو زیادہ سے زیادہ رومانوی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ وصل کی آرزو سے بے حال، کتنی ہی دیر چرچراتے ہیں، کیسے کیسے زیرو بم اس میں شامل کرتے ہیں۔ یوں سمجھیے، محبوبہ کا دل لبھانے کے لیے اپنے ننھے وجود کی ساری تخلیقی قوت، بس دو پل کے وصل کے لیے صرف کردیتے ہیں۔

مجھے مچھروں سے ڈر ضرور لگتا ہے، مگر مجھے ان کی بھیں بھیں سے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اسے سامنے رکھ کر کوئی راگنی کیوں تخلیق نہیں کی گئی؟ مادہ مچھر وں سے، ہم سب انسانوں کا عجب تعلق ہے۔ فطرت کی دنیا کیسی عجب ہے کہ مادہ مچھر کو اپنے انڈوں کو زرخیز بنانے کے لیے جس پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہم انسانوں کے خون سے، زیادہ تر پوری کرتی ہے۔

وہ ہمارا خون بھی پیتی ہے، اورا سی خون میں ایک تلخ و تکلیف دہ یاد بھی چھوڑ جاتی ہے۔ میں مادہ مچھر کی مدد سے، اپنے آس پاس کے انسانوں کو بھی سمجھتا ہوں۔

آوار میں اتنی، مختلف اور متنوع آوازیں ہیں کہ ایک ایک آواز کے اسرار کو سمجھنے میں عمر گزاری جاسکتی ہے۔

(رسول حمزہ توف کی روح سے معذرت کے ساتھ: زیر تصنفیف میرا داغستانِ جدید سے ایک اقتباس)۔