نفرت آدمی کے دل کو آدمی کا دل نہیں رہنے دیتیناصر عباس نیّر09 ستمبر 2024کالمز6163مجھے یہ قول درست نہیں لگتا کہ "جس سے آپ محبت نہ کرسکیں، اس سے نفرت کرتے ہیں"۔ نفرت، محبت کے سکے کا دوسرا رخ نہیں ہے۔ محبت، سکہ نہیں ہے۔ ویسے بھی ہر سکے کا دوسرامزید »
مصنوعی ذہانت اور ہراری کی نئی کتابناصر عباس نیّر30 اگست 2024کالمز5279حال ہی میں اسرائیلی مصنف یووال نوح ہراری کی نئی کتاب Nexus: A Brief History of Information Networks from the Stone Age to AI شائع ہوئی ہے۔ ہراری ہمارے زمانے کےمزید »
غالب، ستم زدگاں کا جہان، خیال و تمنا کی وسعتناصر عباس نیّر23 اگست 2024کالمز1176غالب خیال اور تمناکی وسعت کے لیے دو عالم تو کیا عدم اور امکان کو بھی ناکافی سمجھتے ہیں۔ وہ دو جہانوں کو آدمی کے لیے ناکافی سمجھتے ہیں۔ دونوں جہان دے کے وہ سمجھمزید »
شکر اس کا جس نے ہمیں آدمی یا سور نہیں بنایاناصر عباس نیّر20 اگست 2024کالمز1148چھت کی جانب جاتی ہوئی چیونٹیوں نے دیکھا کہ اس کمرے میں مدت بعد آدمیوں کی آواز سنائی دی ہے۔ ان کے ننھے قدم رک گئے۔ کچھ دیر تو انھیں سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا کریںمزید »
"یہ جاہ دنیا کروں گا کیا میں"، آفتاب اقبال شمیمناصر عباس نیّر30 جولائی 2024کالمز13191کل آفتاب اقبال شمیم رخصت ہوئے۔ اردو دنیا سوگوار ہے۔ وہ جدیدشاعری، خصوصاً نظم کے ممتاز ترین شاعر تھے۔ ان کے یہاں جدید شاعری، ایک اپنا الگ مفہوم متعین کرتی تھی۔ امزید »
میں نےکیوں لکھنا شروع کیاناصر عباس نیّر25 جولائی 2024کالمز1241انھی دنوں ریڈیو کے مختلف پروگراموں میں بھی خط لکھے۔ ریڈیو پر اپنا نام سننے کا باقاعدہ نشہ تھا۔ تب ریڈیو ہر جگہ اور ہر وقت تھا۔ اکیلا پی ٹی وی تھا۔ ٹی وی بھی کسیمزید »
دہلی میں رتن ناتھ سرشار پر سیمینارناصر عباس نیّر19 جولائی 2024کالمز1202یہ سیمنیار چھ جولائی کو غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا۔ اس کے محرک ڈاکٹر سرور الہدیٰ اور منتظم ڈاکٹر محمد ادریس، ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ، تھے۔ پاکستان سے تبسم کمزید »
اسماعیل کادارے کے لیے حرف تعزیتناصر عباس نیّر04 جولائی 2024کالمز1248جولائی کا آغاز ایک افسردہ کن خبر سے ہواہے۔ ایک بڑے ادیب کے انتقال کی خبر سے زیادہ افسردہ کردینے والی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ البانیہ کے اسماعیل کادارے، بڑے ادیب تمزید »
کافکا، ایک صدی بعد (1)ناصر عباس نیّر21 جون 2024کالمز9207ادب و فن اسی فانی زندگی کو لکھتے ہیں، اسے سمجھنے، بدلنے یا پھر جیسی یہ زندگی اس لمحے ہے اور انسانی تجربے میں آتی ہے، اسی طرح پیش کرنے کے لیے۔ لیکن کوئی ادیب لافمزید »
شہر ایک نظم ہےناصر عباس نیّر13 جون 2024کالمز15228جس شہر سے اس کے باشندے ایک جذباتی تعلق(جسے Topophilia کہا جاتا ہے) محسوس نہیں کرتے، یا تو وہ باشندے اس شہر کی ثقافت ومزاج میں رچ بس نہیں سکے یا پھر شہر اپنی مخصمزید »