1. ہوم
  2. نظم
  3. صفحہ 4

راجکمارکہاں ملتے ہیں؟؟

فاخرہ بتول

بھولی بھالی ناری سُن لے۔ چنچل نین کٹورے تیرے، گال گُلابی کورے تیرے ہونٹوں پر اِک نٹ کھٹ لالی ناگن زُلف ہے کالی کالی ماتھے پر بندیا چمکیلی چال تری ہے چھیل چھبی

مزید »

فلسطین

فاخرہ بتول

لیلیٰ کے پاؤں میں سُرخ گلاب مہکتا۔ سسک رہا ہے آبلوں میں صدیوں کی کہانی آنکھوں میں گہرا سنٌاٹا۔ ہُو کا عالم شام گھنیری۔ رم جھم اوس میں بھیگی پلکیں۔ چیتھڑے تن

مزید »

میں سیتا ہوں تُو رام سہی

فاخرہ بتول

میں سیتا ہوں تُو رام سہی مرا جیون تیرے نام سہی ماتھے کی یہ بندیا چمکیلی ہونٹوں کی یہ لالی شرمیلی یہ زُلف نہیں، یہ شام سہی مرا جیون تیرے نام سہی آ ماتھے پر سی

مزید »

ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ

فاخرہ بتول

ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮯ ﺳﻠﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﭗ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻠﮯ ﮨﻮؤﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ۔۔

مزید »

خود کلامی

شاہد کمال

ہمارے شاعر خونین ںوااے ہمارے سوز و ساز و ہمنوامجھے اس حالت میں دیکھ کرتمہاری روح فشار آگہی کے عذاب میں مبتلا ہوگیتم مجھے یوں دیکھ کر غمگین کیوں ہوتمہاری دجلہ چش

مزید »

محبت کم نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

فاخرہ بتول

کوئی کتنا جتن کر لے محبت کم نہیں ہوتی زمانہ اِس کے آگے آہنی دیوار بن جائے اور اُس کا ہاتھ اِک تلوار بن جائے محبت ڈر نہیں سکتی ڈرانے سے نہیں مٹتی مٹانے سے محبت

مزید »

مِرااُستاد مہرِ جانِ جہاں

شاہد کمال

چاند کو چھونے کی تمناستارے توڑنے کی ضدسبک سار ہاتھوں کی نیم وَا ہتھیلی میںسورج کو قید کرنے کی کوششہَواکا آنچل تھام کرگہرے نیلے آکاش میں اُڑنے کی آرزوجذبے کی

مزید »