فاخرہ بتول13 دسمبر 2017نظم01059
بھولی بھالی ناری سُن لے۔ چنچل نین کٹورے تیرے، گال گُلابی کورے تیرے
ہونٹوں پر اِک نٹ کھٹ لالی ناگن زُلف ہے کالی کالی
ماتھے پر بندیا چمکیلی چال تری ہے چھیل چھبی
مزید »فاخرہ بتول07 دسمبر 2017نظم231359
لیلیٰ کے پاؤں میں سُرخ گلاب مہکتا۔ سسک رہا ہے
آبلوں میں صدیوں کی کہانی آنکھوں میں گہرا سنٌاٹا۔
ہُو کا عالم شام گھنیری۔
رم جھم اوس میں بھیگی پلکیں۔ چیتھڑے تن
مزید »فاخرہ بتول28 نومبر 2017نظم01031
میں سیتا ہوں تُو رام سہی مرا جیون تیرے نام سہی
ماتھے کی یہ بندیا چمکیلی ہونٹوں کی یہ لالی شرمیلی
یہ زُلف نہیں، یہ شام سہی مرا جیون تیرے نام سہی
آ ماتھے پر سی
مزید »فاخرہ بتول16 نومبر 2017نظم0862
ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮯ ﺳﻠﮓ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﭗ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻠﮯ ﮨﻮؤﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﮐﺎ۔۔
مزید »شاہد کمال31 اکتوبر 2017نظم0976
ہمارے شاعر خونین ںوااے ہمارے سوز و ساز و ہمنوامجھے اس حالت میں دیکھ کرتمہاری روح فشار آگہی کے عذاب میں مبتلا ہوگیتم مجھے یوں دیکھ کر غمگین کیوں ہوتمہاری دجلہ چش
مزید »فاخرہ بتول30 اکتوبر 2017نظم0878
کوئی کتنا جتن کر لے محبت کم نہیں ہوتی زمانہ اِس کے آگے آہنی دیوار بن جائے
اور اُس کا ہاتھ اِک تلوار بن جائے محبت ڈر نہیں سکتی ڈرانے سے
نہیں مٹتی مٹانے سے محبت
مزید »شاہد کمال16 ستمبر 2017نظم0876
کُنجِ دل میں ہے جو ملال اُچھالروشنی کے کنول اُچھال ، اُچھالڈھال تُو اپنے مہر و ماہ و نجومدن اُچھال اپنے ماہ و سال اُچھالبے سپر ہے یہ میری تنہائیاے مری جان اپنی
مزید »فاخرہ بتول12 ستمبر 2017نظم01488
چلو ساحل پہ جاکر اپنی پلکوں سے۔ سنہرا جال بُنتے ہیں
سمندر میں اُتر کر۔ سیپیوں سے کچھ سُریلے تال بُنتے ہیں
چلو اب اُنگلیوں کی نرم پوروں سے۔ ذرا خوشبو کو چُنتے
مزید »شاہد کمال05 ستمبر 2017نظم0906
چاند کو چھونے کی تمناستارے توڑنے کی ضدسبک سار ہاتھوں کی نیم وَا ہتھیلی میںسورج کو قید کرنے کی کوششہَواکا آنچل تھام کرگہرے نیلے آکاش میں اُڑنے کی آرزوجذبے کی
مزید »فرحان سعید26 اگست 2017نظم0818
خانمیں اپنے گزرے دنوں کو جب بھی ٹٹولتا ہوںحسین یادیں پھرولتا ہوںوفا کے معنی کو کھوجتا ہوںحسین لمحوں کو سوچتا ہوںاور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوںتو جا نتا ہوںوف
مزید »