1. ہوم
  2. نظم
  3. صفحہ 5

گُڑیا آج بھی اندھی ھے !

فاخرہ بتول

کھیلتے کھیلتے دونوں میں سے۔ ایک نے دوجے کی گُڑیا کی نوچ لی آنکھیں لڑکی چیخی۔ دیکھو، تم نے میری گُڑیا اندھی کر دی اب سپنے کیسے دیکھے گی؟ لڑکا نادم ہو کر بولا

مزید »

آنکھیں

شاہد کمال

حسین چہرہ دمکتی آنکھیں حیا میں ڈوبی لجاتی آنکھیں فسانہ دل کا سنا رہی ہیں سیاہ زلفیں چمکتی آنکھیں گھنیری زلفوں کے پیچ و خم میں الجھ ، ال

مزید »

محبت ھار جاتی ھے

فاخرہ بتول

محبت کی کہانی کا عجب کردار ہوتا ہے کبھی خوشبو کی صورت میں بکھرتی ہے۔۔ سنورتی ہے ہوا پہ رقص کرتی ہے کبھی کانٹوں پہ چلتی ہے تو ننگے پیر چلتی ہے کبھی یہ تخت پر ب

مزید »

محبت ھیر کرتی ھے!

فاخرہ بتول

محبت ھیر کرتی ہے۔۔ محبت میں بہت سے موڑ آتے ہیں کبھی یہ وصل کو جاگیر کرتی ہے کبھی یہ ھجر کو زنجیر کرتی ہے لہو میں اِس کا جس پل وار چلتا ہے تو دھڑکن میں انوکھے

مزید »

عید سرخ

صائمہ عروج

سستا خون۔۔ ہےمہنگا پانی عید کا تحفہ۔۔ سرخ کہانی آنسو آنسو وطن کی مٹی بےحس بے دم قصر سلطانی ہر لمحے کی خوشیاں زنداں ہر موسم کی رت طوفانی جب بھی ہم مسکانا چاہی

مزید »

چیختے آنسو

شاہد کمال

وہ کس کے ہاتھ میں ہے رخشِ انقلاب کی باگوہ اُڑ رہا ہے ہَواؤں میں کیسا سرخ غبارپڑے ہیں خاک پہ بکھرے ہوئے لہو کے گلابفضا کو چیر رہی ہے کسی دھوئیں کی لکیرہوا ہے خط

مزید »

صائمہ عروج بٹ

صائمہ عروج

آو اک بازار سے گڑیا لے آئیں۔۔ گڑیا کا کیا کرو گی؟ گڑیا کے سامنے ہر رت کی میٹھی بات کروں گی۔ اس کی بات سنوں گی۔ اس کی بات سکھی جیسی اس کی بات پیا جیسی اس کی ب

مزید »

خوشی کشید کرنے والے

صائمہ عروج

خوشی کشید کرنے والوں کے ہاتھوں پہ چھالے تھے۔۔ دلوں کی سرزمیں پر مسکراہٹ کی شجرکاری میں جو نام آئے وہ ان ہی مجاہدوں کی دیوانگی کے حسیں حوالے تھے۔۔ ۔۔ "خوشی"

مزید »

پارسا اور فاحشہ

معاذ بن محمود

اس نے دعوت دی میں نے قبول کی وہ داعی ہو کے پارسا میں مدعو پھر بھی فاحشہ جسم میرا ہی تھا آنکھ تیری تھی ظالم تو ناظر رہا اور پارسا میں ح

مزید »