1. ہوم
  2. سید محمد زاہد
  3. صفحہ 2

خصم، سرہانے کا سانپ

سید محمد زاہد

میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک ا

مزید »

مقدس ناتا

سید محمد زاہد

اب سفید بالوں نے کنپٹیوں پر ہنسنا شروع کر دیا تھا۔ برف کے ان گالوں نے چہرے پر چھائے سال ہا سال کے آلام کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ موسم خضاب شروع ہوچکا تھا لیکن مریم

مزید »

ملن کے گیت

سید محمد زاہد

سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم

مزید »

چغد

سید محمد زاہد

میرا وکیل مسلسل ایک ہی بات کہہ رہا تھا، "میں جھوٹا کیس نہیں لیتا اور کبھی کوئی کیس ہارا بھی نہیں۔ مجھے مخالف فریق کے حیلے بہانوں کی پرواہ ہے اور نہ ہی جھوٹی شہا

مزید »

فردوس گم گشتہ

سید محمد زاہد

اس شہر کا نام تھا، فردوس بریں۔ سائنسی ترقی کے سامنے دنیا بھر کی مشکلات سرنگوں ہوئیں تو انسان کی سب خواہشات بھی پوری ہوگئیں۔ چمکتا سورج اور روشن نیلا صاف آسمان،

مزید »

جوتے کی نوک پر

سید محمد زاہد

"اری او سوہنی! کہاں ہو؟ جب دیکھو جوتوں سے ہی کھیلتی رہتی ہو"۔ "جی، بی بی جی۔ آئی"۔ "صبح سے کیا کام کیا ہے؟" "بی بی جی، سارا صحن صاف کر چکی ہوں۔ کمرے جھاڑ پون

مزید »