سید محمد زاہد21 مارچ 2025افسانہ190
وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہ
مزید »سید محمد زاہد14 مارچ 2025افسانہ680
دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جات
مزید »سید محمد زاہد11 مارچ 2025افسانہ1111
(اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ "کایا کلپ" سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے)۔
برسات کو کس نے سہانا موسم
مزید »سید محمد زاہد23 فروری 2025افسانہ12108
گڈ مارننگ!
اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں
مزید »سید محمد زاہد06 فروری 2025افسانہ2103
موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں
مزید »سید محمد زاہد17 جنوری 2025افسانہ4106
"یہ کیسے ممکن ہے؟" کرسٹینا نے سوال کیا۔
نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی۔
"تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہو
مزید »سید محمد زاہد09 جنوری 2025افسانہ197
"میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار
مزید »سید محمد زاہد30 دسمبر 2024افسانہ0108
بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے: یہ
مزید »سید محمد زاہد22 دسمبر 2024کالمز13106
ایک وقت تھا سلطنت روم کی فوجیں فرانس سے آگے بڑھتے ہوئے برطانیہ میں گھس چکی تھیں۔ ان کے بچے افریقی ملک تیونس کی انجیر، الجیریا کی کھجور اور مصر کا گیہوں کھاتے تھ
مزید »سید محمد زاہد08 دسمبر 2024افسانہ1104
میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔
تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
اندھیری رات
مزید »