شائستہ مفتی02 اکتوبر 2024غزل0130
شہرِ دل تیرے خرابوں کی یہ تقدیر نہیں بات بن جائے کسی طور بھی تدبیر نہیں
چارہ گر تیری نوازش، ترا احسان مگر زخم بھر جائیں جو اس دل کے وہ اکسیر نہیں
آج پھر تیر ب
مزید »شائستہ مفتی28 ستمبر 2024افسانہ15173
کتنے ہی برس بیت گئے اسے اس جگہ اور ملک کو چھوڑے ہوے۔۔ ابھی کل کی ہی بات لگتی ہے کہ وہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر اس مسجد میں آیا کرتا تھا۔۔ ادب سے سر جھکاے ہوے خا
مزید »شائستہ مفتی04 جون 2024غزل25271
چاند کے رخ پہ ستارہ دیکھوں تیری پلکوں کا کنارہ دیکھوں
کھو نہ جاؤں میں تری آنکھوں میں ڈوب جانے کا اشارہ دیکھوں
یونہی دھیرے سے کہا کچھ تم نے کاش منظر وہ دوبارہ
مزید »شائستہ مفتی02 جون 2024غزل8271
نغمۂ دل کی صدا ہو جیسے تیرے آنے کی دعا ہو جیسے
خوب نکھرے گا تیری رنگت پر لالۂ شوق کھلا ہو جیسے
صبح اک خواب کی صورت اتری تیری آہٹ کی صدا ہو جیسے
تیرے آنے سے ب
مزید »شائستہ مفتی31 مئی 2024غزل3277
ہستئی جاں کا نام رہنے دے ہم سے اتنا کلام رہنے دے
دستکیں دے رہا ہے دل پہ کوئی کس کا آیا پیام رہنے دے
خواب میں آج اس کو دیکھا ہے آج دن بھر کے کام رہنے دے
خوب ہ
مزید »شائستہ مفتی29 مئی 2024غزل1211
بُت خانۂ محمل سے کہا ایک صنم نے پارس کیا پتھر کو ترے جوروستم نے
جب خلد سے نکلے تو کہیں اور نہ ٹھہرے دل کو نہ دیا چین کسی دیر و حرم نے
خاموش نگاہوں سے کیا شکوۂ
مزید »شائستہ مفتی27 مئی 2024غزل1257
دیکھو تو اشکبار ہیں یہ چاک اور چراغ بارش میں سوگوار ہیں یہ چاک اور چراغ
تنہائیوں کے کنج میں بیتے سمے کی چاپ یک گو نہ یادگار ہیں یہ چاک اور چراغ
اس دھند نے تو
مزید »شائستہ مفتی25 مئی 2024غزل1221
شام آ کر جھروکوں میں بیٹھی رہے ساعتوں میں سمندر پروتی رہے
موسموں کے حوالے ترے نام سے دھوپ چھاؤں مرے دل میں ہوتی رہے
جی نہ چاہا تری محفلوں سے اٹھوں بے بسی خالی
مزید »شائستہ مفتی23 مئی 2024افسانہ1252
صحرا کی گرم ریت پر چلتے چلتے اچانک ہی اُسے کہیں دور سے گڑ گڑاہٹ کی آواز سنائی دی، پلوشہ نے چاروں طرف نظر دوڑائی، کچھ نظر نہیں آیا۔
سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آو
مزید »شائستہ مفتی28 مارچ 2024افسانہ1396
وہ ایک زخم ہی تو تھا جو جانے انجانے میں کھیل کود کے دوران بچپن میں کبھی لگ گیا تھا، گھٹنے کے پاس لمبوترا سا، سارا گھٹنا خون سے بھر گیا تھا۔
سات بہن بھائیوں میں
مزید »