سید محمد زاہد06 فروری 2025افسانہ2103
موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں
مزید »محمد عامر حسینی20 جنوری 2025افسانہ42163
امبر نے صبح کی پہلی سگریٹ سلگائی اور چھوٹے سے برآمدے کی زنگ آلود ریلنگ سے ٹیک لگا لی۔ جنوری کی دھوپ نیم کے بے برگ درخت کے بیچ سے چھن کر صحن میں بکھر رہی تھی، چھ
مزید »سید محمد زاہد17 جنوری 2025افسانہ4106
"یہ کیسے ممکن ہے؟" کرسٹینا نے سوال کیا۔
نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی۔
"تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہو
مزید »ریٔس احمد کمار15 جنوری 2025افسانہ199
دفتر سے واپس گھر آنے اور چائے نوش کرنے کے بعد سلام خواجہ نے سیدھے نائی کے دکان کی طرف رخ کیا۔ اگلے روز انہیں دعوت پر جانا تھا۔ اس لیے اس کی بیوی نے اسے بال بنوا
مزید »شائستہ مفتی10 جنوری 2025افسانہ0110
وہ کتنے پیار سے اُسے دیکھ رہا تھا، مارے بوکھلاہٹ کے اُس کے ہاتھ سے گلاس چھٹتے چھٹتے رہ گیا، ہائے میں مر گئی! حیا سے اُس کے گال گلال ہو گئے، ہزاروں تتلیاں جیسے چ
مزید »سید محمد زاہد09 جنوری 2025افسانہ197
"میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار
مزید »سید محمد زاہد30 دسمبر 2024افسانہ0108
بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے: یہ
مزید »ڈاکٹر ارشد رضوی12 دسمبر 2024افسانہ4104
یہ تیزی سے غائب ہوتے دنوں کا قصہ ہے جو کسی کے ہاتھ نہیں لگے، اگر لگے بھی ہوں تو کچھ اسطرح جیسے کوئی احساس، جسے سمجھا نہ گیا ہو۔ لگا کوئی کائی لگی شے چھو کر گزر
مزید »سید محمد زاہد08 دسمبر 2024افسانہ1104
میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔
تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
اندھیری رات
مزید »سید محمد زاہد29 نومبر 2024افسانہ7131
میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک ا
مزید »